میڈیا کا گروپ حکومت کے خلاف فریق بن چکا ہے، پیپلز پارٹی نے مکمل بائیکاٹ کا فیصلہ ہے، فوزیہ وہاب |
کراچی ، ( پریس ریلیز) پاکستان پیپلز پارٹی کی مرکزی سیکریٹری اطلاعات فوزیہ وہاب نے میڈیا کے ایک بڑے نجی ادارے کے پرنٹ اور الیکٹرونک پروگرامات کے بائیکاٹ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج کے بعد پیپلز پارٹی کا کوئی بھی رہنماءمیڈیا کے اس گروپ کے کسی بھی ادارے کے پروگرام میں شرکت نہیں کرے گا، نیب چیئرمین کی تعیناتی پر مسلم لیگ (ن) کو آئینہ میں اپنا چہرہ نظر آرہا ہے۔ مقدمات صرف پیپلز پارٹی کے نہیں شریف برادران کے بھی ری اوپن ہونے چاہئیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو پیپلز پارٹی سندھ کی میڈیا سیل میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر پیپلزپارٹی کے مختلف رہنماءبھی موجود تھے۔
فوزیہ وہاب نے کہا ہے کہ نیب چیئرمین کی تعیناتی پر مسلم لیگ (ن) کو آئینہ میں مستقبل کا چہرہ نظر آرہا ہے یہی وجہ ہے کہ وہ مخالفت برائے مخالفت پر اتر آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شریف برادران کے خلاف نیشنل بینک کے ڈیفالٹ کیس سمیت متعدد مقدمات ہیں او رانکے خلاف نیب میں بیس انکوائریز التواءمیں ہیں، شریف برادران کی وطن واپسی کے بعد ان کا کھلنا ضروری ہوگیا ہے۔ نیب میں شریف برادران کے مقدمات ری اوپن ہونے کے خوف سے چوہدری نثار چیئرمین نیب کی تعیناتی پر واویلا مچا کر معمول کی تعیناتی کو متنازعہ بنانا چاہتے ہیں اور وہ غیر جمہوری ہاتھوں کھیل رہے ہیں۔ چوہدری نثار کا واویلا انتہائی افسوسناک ہے، وہ راتوں میں چھپ کر جرنیلوں سے ملاقاتیں کیوں کرر ہے ہیں؟ قوم کو اس کا جواب دیں۔ مسلم لیگ (ن) کی جاری کردہ چارج شیٹ میں چھوٹے صوبوں اور بلوچستان کی احساس محرومی کا ذکر ہے۔ چوہدری نثار قوم کو یہ بتائیں اپنے دور میں چھوٹے صوبوں کا احساس محرومی دور کیوں نہیں کیا۔
انہوں نے کہا کہ شریف برادران پر ایک ارب روپے کا قومی بینک کا ڈیفالٹ، 6 ارب روپے کے بدعنوانی کے کیسز، حدیبیہ ملز کا کیس اور ٹیکس چوری کے کیسز بھی ہیں۔ احتساب برابری کی بنیاد پر ہوگا لیکن ایسا لگتا ہے کہ چوہدری نثار کو ان چیزوں سے ڈر لگ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ این آر او سے ساڑھے آٹھ ہزار افراد نے فائدہ اٹھایا لیکن چند حکومتی شخصیات کو اچھالا جارہا ہے جو بدنیتی پر مبنی ہے۔ ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ حکومتی ارکان عدالتوں کے چکر کاٹ رہے ہیں۔ اور اپوزیشن کو سیاسی سرگرمیوں کی کھلی چھوٹ ہے۔ ہم مفاہمت کی جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں۔ 86ءاور 90ءکے دہائی کا دور واپس لانا نہیں چاہتے۔
انہوں نے کہا کہ میڈیا کے ایک بڑے گروپ نے 8 ارب روپے کا قرض واپس نہیں کیا اور ایک ارب 68 کروڑ روپے ٹیکس کا نادہندہ ہے۔ جس کے حوالے سے انہوں نے سندھ ہائی کورٹ سے حکم امتناہی لیا ہے۔ اس ادارے کی نشریات روکنے سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ہے۔ ٹیکس چوری اور لون واپسی کے معاملے پر وہ حکومت کو بلیک میل کرنا چاہتے ہیں۔فوزیہ وہاب نے اعلان کیا کہ آج کے بعد پیپلزپارٹی کا کوئی بھی رہنماءیا کارکن اس ادارے کے پرنٹ یا الیکٹرونک کسی بھی پروگرام میں شرکت نہیں کرے گا اور پیپلز پارٹی کی جانب سے اس ادارے کا مکمل بائیکاٹ کا فیصلہ کیا گیا ہے۔