PPP MEDIA CELL SINDH Milk price raised by Rs. 8 per liter in Karachi         Hangu attack victims laid to rest         Bangladesh stay in the hunt for last eight spot         Pakistan, Zimbabwe W. Cup match resumes         1,000 Saudi troops enter Bahrain         Cricket Commentator Omar Kureshi’s 6th death anniversary today         Dollar rises vs yen as BOJ acts; euro boosted         Japan grapples with nuclear crisis; tsunami puts economy at risk         Rain halts Pakistan, Zimbabwe W. Cup match         PPP women members’ protest in Lahore         Karachi unrest: ANP submits adjournment motion in Senate          Zimbabwe elects to bat against Pakistan         SA's speech record, resolution on NAB chairman issue submitted in SC         Davis case: Immunity issue to be decided by trial court         Pakistan seek confidence boost against Zimbabwe         Woman killed, man hurt on resistance in Lahore         Ten fall prey as violence continues in Karachi         Pope prays for Japan victims, encourages rescue teams         Fans dance with Shakira at concert        

Thursday, March 10, 2011

Sharjeel Memon Press Conference with PPP MPAs'




The Sindh PPP media cell’s spokesperson, MPA Sharjeel Memon, speaking at a press conference, said that the PPP MPAs would wear black armbands during the provincial assembly’s session on Friday (today).

Memon, flanked by MPAs Imdad Pitafi, Agha Taimur and Javed Shah Jillani, said that the legislators would take out a rally from the assembly building and march up to the Sindh High Court building to lodge their protest against the judgment of the SC. Memon said it was the constitutional right of the government to appoint heads of the institutions.

He said the government was not “interfering” in the judiciary’s affairs, therefore, “the judiciary should also respect the government’s prerogatives”. Memon said several cases had been pending before the judiciary and asked why the same were not being taken cognizance of by the judges.

He cited the Mehran Bank and the Hudabia Paper Mills cases and asked why the judiciary had not been taking notice of the Punjab government being run through a stay order, and no hearing into the stay order had taken place for a considerable length of time.



کراچی (پریس رلیز)پاکستان پیپلز پارٹی میڈیا سیل سندھ  کے انچارج شرجیل میمن نے پیپلزمیڈیا سیل میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پارٹی چےئرمین ذوالفقار علی بھٹو کے حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اداروں کے سربراہوں کا تقرر حکومت کا آئینی حق ہے۔ انہوں نے اس امر پر حیر ت کا اظہار کیا کہ عد الت میں کئی دیگر اہم مقدمات زیر التوا ہیں انہیں کیوں نہیں اٹھایاجاتا، مہران بینک اسکینڈل، حدیبیہ پیپر ملز کیس اور خصوصاً پنجاب حکومت کا اسٹے آرڈر جس پر برسوں گذر جانے کے باوجود دوسری تاریخ نہیں لگائی جاتی۔ پیپلزپارٹی کے رہنماؤں نے تاجروں اور ٹرانسپورٹرز سے اپیل کی کہ وہ جمعہ کو اپنا کاروبار اور ٹرانسپورٹ بند رکھیں ۔ انہوں نے پیپلز پارٹی کی مقامی تنظیموں کو ہدایت کی کہ وہ پرامن مظاہرے کریں۔ تاج حیدر نے اپنی پریس کانفرنس میں کہا کہ جسٹس (ر) دیدار حسین شاہ کی بطور چیئرمین نیب تقرری کے خلاف سپریم کورٹ نے جو فیصلہ دیا ہے اس پر سندھ میں یہ احساس پیدا ہوا ہے کہ جسٹس (ر) دیدار حسین شاہ کا تعلق چونکہ سندھ سے ہے لہٰذا سپریم کورٹ کی طرف سے اس طرح کا فیصلہ آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جسٹس (ر) دیدار حسین شاہ کی غیر جانبداری اور دیانتداری مسلم ہے کسی نے ان کی تقرری پر انگلی نہیں اٹھائی۔ سب لوگ یہ توقع کررہے تھے کہ وہ نیب کے چیئرمین کی حیثیت سے کرپشن کے مقدمات میں معروضی فیصلے کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ عدلیہ کی عزت اور بحالی کیلئے پیپلز پارٹی کی قیادت اور کارکنوں نے بڑی قربانیاں دی ہیں۔ عدلیہ کی آزادی کی تحریک میں ہمارے ہی لوگ شہید ہوئے لیکن یہ بات افسوسناک ہے کہ گذشتہ 3 سال سے عدلیہ کو سیاست میں گھسیٹنے کی کوششیں ہورہی ہیں۔ ٹی وی چینلز مسلسل یہ باتیں کررہے ہیں کہ موجودہ حکومت کو عدلیہ کے ذریعے ہٹایا جائے گا۔ عدلیہ کو اس تاثر کا نوٹس لینا چاہیے۔ عدلیہ نے جمعرات کو جس قسم کا فیصلہ کیا ہے اس سے یہ تاثر مزید جڑ پکڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے عوام کے غم وغصے اور احتجاج کو پرامن رکھنے کیلئے ہڑتال کی کال دی ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم عدلیہ کے ساتھ تصادم میں نہیں جارہے۔جب ہمارے قائد ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دی گئی تو پھانسی دینے والے ایک جج نے بعد ازاں ٹی وی چینل پر آکر کہا کہ عدلیہ نے دباؤ کی بنیاد پر ایک شخص کو قتل کردیا۔ ہم نے شہید بھٹو کے قتل کو ہمیشہ عدالتی قتل قرار دیا ہے اور یہی چیزیں بھی جلد باہر آجائیں گی کہ جمعرات کا سپریم کورٹ کا فیصلہ کیسے ہوا۔ دریں اثناء پیپلزمیڈیا سیل میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہاکہ اداروں کے سربراہوں کا تقررحکومت کا آئینی حق ہے شرجیل میمن نے کہاکہ سندھ اسمبلی کے اجلاس میں تمام ارکان سیاہ پٹیاں باندھ کر شریک ہونگے اورسندھ ہائیکورٹ تک پر امن پیدل مارچ کیا جائے گا۔ انہوں نے سیاسی جماعتوں اورعوام سے اپیل کی کہ وہ پرامن احتجاج میں شامل ہوکر اپنا احتجاج ریکارڈ کرائیں ۔


TAJ HAIDER PRESS CONFRENCE



کراچی: پریس رلیز ۔ حکومت سندھ کے میڈیا کو آرڈینیٹر، پی پی پی سندھ کے سیکریٹری جنرل تاج حیدر نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی نے کبھی ٹکراؤ کی سیاسست نہیں کی، ہر بار ٹکراؤ کی صورتحال دائیں طرف سے پیدا کی جاتی ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی میڈیا سیل سندھ میں صوبائی وزیر رفیق انجنیئر، پی پی پی میڈیا سیل کے انچارج شرجیل انعام میمن، پیپلز پارٹی کراچی ڈویژن کے صدر سید نجمی عالم اور دیگر پیپلز پارٹی رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نواز شریف شریعت کے نام پر 15ویں ترمیم لائے اور خود کو امیر المومنین کے لقب سے نوازنہ چاہا۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے مفاہمت پر یقین کیا ہے اور مفاہمت کی پالیسی ایک کامیاب پالیسی ہے جس کے بدلے ہم نے بہت نقصانات اٹھائے، لیکن نواز شریف نے ہمیشہ ٹکراؤ چاہا، نواز شریف نے ایوان صدر، فوج، عدلیہ سے مخالفت کا راستہ اختیار کیا، جس کی وجہ سے فوج کو مارشل لاء کا راستہ ملا، انہوں نے کہا کہ نواز شریف کو ٹکراؤ کی سیاست سے پرہیز کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ مخدوم جاوید ہاشمی اور بیگم کلثوم نواز نے جمہوریت کیلئے جدوجہد کی ہے میں ان سے مخاطب ہو کر انہیں بتانا چاہتا ہوں کہ میاں نواز شریف نے جو تصادم کی پالیسی اختیار کی ہے اس سے ملک میں جمہوری استحکام کو سخت نقصان پہنچ سکتا ہے۔ تاج حیدر کا کہنا تھا کہ نواز شریف کہتے ہیں کہ الٹی میٹم کا لفظ ہماری ڈکشنری میں نہیں تو پھر وہ تاریخ پہ تاریخ کیوں دیتے پھر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بینظیر بھٹو کی اپنی حکمت عملی تھی کہ وہ خود ملک واپس آئیں۔ کسی بھی سیاسی جماعت نے جمہوریت کیلئے اتنی قربانیاں نہیں دیں جتنی پیپلز پارٹی نے دی ہیں، پھر بھی ہم سے یہ گلہ کیا جا رہا ہے کہ ہم وفادار نہیں۔
اس موقع پر شرجیل انعام میمن نے عمران خان کے لانگ مارچ کے بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہو ئے کہا کہ عمران خان مشرف کے دور میں لانگ مارچ کرتے تو عوام کی نظروں میں انکی عزت باقی رہ جاتی۔ عوامی ووٹوں سے منتخب شدہ جمہوری حکومت کے خلاف لانگ مارچ انکی سیاسی خودکشی ثابت ہو گی۔ عمران خان نے مشرف ریفرنڈم کی حمایت کی اور وردی والے صدر کی حمایت سے الیکشن لڑا، جب آمریت کا دور ختم ہوا اور جنرل الیکشن ہوئے تو عمران خان نے اس جمہوری طور پر ہونے والی الیکشن کا بائیکاٹ کیا۔ اس بات سے یہ ثابت ہو گیا کہ عمران خان آمریت کے پروردہ ہیں۔


TAJ HAIDER PRESS CONFRENCE



کراچی: پریس رلیز ۔ حکومت سندھ کے میڈیا کو آرڈینیٹر، پی پی پی سندھ کے سیکریٹری جنرل تاج حیدر نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی نے کبھی ٹکراؤ کی سیاسست نہیں کی، ہر بار ٹکراؤ کی صورتحال دائیں طرف سے پیدا کی جاتی ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی میڈیا سیل سندھ میں صوبائی وزیر رفیق انجنیئر، پی پی پی میڈیا سیل کے انچارج شرجیل انعام میمن، پیپلز پارٹی کراچی ڈویژن کے صدر سید نجمی عالم اور دیگر پیپلز پارٹی رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نواز شریف شریعت کے نام پر 15ویں ترمیم لائے اور خود کو امیر المومنین کے لقب سے نوازنہ چاہا۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے مفاہمت پر یقین کیا ہے اور مفاہمت کی پالیسی ایک کامیاب پالیسی ہے جس کے بدلے ہم نے بہت نقصانات اٹھائے، لیکن نواز شریف نے ہمیشہ ٹکراؤ چاہا، نواز شریف نے ایوان صدر، فوج، عدلیہ سے مخالفت کا راستہ اختیار کیا، جس کی وجہ سے فوج کو مارشل لاء کا راستہ ملا، انہوں نے کہا کہ نواز شریف کو ٹکراؤ کی سیاست سے پرہیز کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ مخدوم جاوید ہاشمی اور بیگم کلثوم نواز نے جمہوریت کیلئے جدوجہد کی ہے میں ان سے مخاطب ہو کر انہیں بتانا چاہتا ہوں کہ میاں نواز شریف نے جو تصادم کی پالیسی اختیار کی ہے اس سے ملک میں جمہوری استحکام کو سخت نقصان پہنچ سکتا ہے۔ تاج حیدر کا کہنا تھا کہ نواز شریف کہتے ہیں کہ الٹی میٹم کا لفظ ہماری ڈکشنری میں نہیں تو پھر وہ تاریخ پہ تاریخ کیوں دیتے پھر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بینظیر بھٹو کی اپنی حکمت عملی تھی کہ وہ خود ملک واپس آئیں۔ کسی بھی سیاسی جماعت نے جمہوریت کیلئے اتنی قربانیاں نہیں دیں جتنی پیپلز پارٹی نے دی ہیں، پھر بھی ہم سے یہ گلہ کیا جا رہا ہے کہ ہم وفادار نہیں۔
اس موقع پر شرجیل انعام میمن نے عمران خان کے لانگ مارچ کے بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہو ئے کہا کہ عمران خان مشرف کے دور میں لانگ مارچ کرتے تو عوام کی نظروں میں انکی عزت باقی رہ جاتی۔ عوامی ووٹوں سے منتخب شدہ جمہوری حکومت کے خلاف لانگ مارچ انکی سیاسی خودکشی ثابت ہو گی۔ عمران خان نے مشرف ریفرنڈم کی حمایت کی اور وردی والے صدر کی حمایت سے الیکشن لڑا، جب آمریت کا دور ختم ہوا اور جنرل الیکشن ہوئے تو عمران خان نے اس جمہوری طور پر ہونے والی الیکشن کا بائیکاٹ کیا۔ اس بات سے یہ ثابت ہو گیا کہ عمران خان آمریت کے پروردہ ہیں۔


Wednesday, February 2, 2011

جمہوریت بے نظیر بھٹو کی شہادت کے باعث آئی، پاکستان پیپلز پارٹی۔

 


22-09-2010

جمہوریت بے نظیر بھٹو کی شہادت کے باعث آئی، پاکستان پیپلز پارٹی۔

کراچی (پریس رلیز) پاکستان پیپلز پارٹی میڈیا سیل کے انچارج، ایم پی اے شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ حکومت کی تبدیلی کی بات کرنے والے جمہوریت اور عوام کے دشمن ہیں، ملک میں جمہوریت کئی برسوں کی جدوجہد کے بعد اور محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے باعث آئی ہی، پاکستان پیپلز پارٹی میڈیا سے جاری کردہ بیان میں شرجیل انعام میمن نے کہا کہ پیپلز پارٹی کو عوام نے ووٹ دے کر پانچ سال کے لیے منتخب کیا اور پیپلز پارٹی کی حکومت نے ڈھائی سالوں میں تاریخی اقدامات کرکے یہ ثابت کرکے دکھایا ہے کہ حقیقی جمہوریت پیپلز پارٹی کی حکومت ہی بحال کر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن لوگوں نے ماضی میں کرپشن کرکے تمام ریکارڈ توڑے اور آج وہ تبدیلی کی بات کررہے ہیں، عوام آج بھی پیپلز پارٹی کو سپورٹ کرتے ہیں، جس کا ثبوت حالیہ ضمنی انتخاب میں این اے 184 بہاولپور پر پیپلز پارٹی کی خدیجہ عامر کی کامیابی ہے۔ شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ تبدیلی کی بات کرنے والے جمہوریت کی بقا کے لیے اپنے رویوں میں تبدیلی لائیں، ملک کو 90ءکی دہائی میں نہ دھکیلا جائی، مفاہمت میں ہی ملک اور قوم کی بہتری ہے۔


جمہوریت بے نظیر بھٹو کی شہادت کے باعث آئی، پاکستان پیپلز پارٹی۔

 


22-09-2010

جمہوریت بے نظیر بھٹو کی شہادت کے باعث آئی، پاکستان پیپلز پارٹی۔

کراچی (پریس رلیز) پاکستان پیپلز پارٹی میڈیا سیل کے انچارج، ایم پی اے شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ حکومت کی تبدیلی کی بات کرنے والے جمہوریت اور عوام کے دشمن ہیں، ملک میں جمہوریت کئی برسوں کی جدوجہد کے بعد اور محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے باعث آئی ہی، پاکستان پیپلز پارٹی میڈیا سے جاری کردہ بیان میں شرجیل انعام میمن نے کہا کہ پیپلز پارٹی کو عوام نے ووٹ دے کر پانچ سال کے لیے منتخب کیا اور پیپلز پارٹی کی حکومت نے ڈھائی سالوں میں تاریخی اقدامات کرکے یہ ثابت کرکے دکھایا ہے کہ حقیقی جمہوریت پیپلز پارٹی کی حکومت ہی بحال کر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن لوگوں نے ماضی میں کرپشن کرکے تمام ریکارڈ توڑے اور آج وہ تبدیلی کی بات کررہے ہیں، عوام آج بھی پیپلز پارٹی کو سپورٹ کرتے ہیں، جس کا ثبوت حالیہ ضمنی انتخاب میں این اے 184 بہاولپور پر پیپلز پارٹی کی خدیجہ عامر کی کامیابی ہے۔ شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ تبدیلی کی بات کرنے والے جمہوریت کی بقا کے لیے اپنے رویوں میں تبدیلی لائیں، ملک کو 90ءکی دہائی میں نہ دھکیلا جائی، مفاہمت میں ہی ملک اور قوم کی بہتری ہے۔


Deny of Propegenda

کراچی (پ ر) پاکستان پیپلز پارٹی میڈیا سیل سندھ کے انچارج، رکن سندھ اسمبلی شرجیل انعام میمن نے چند اخباروں میں شائع ہونے والی عدلیہ کیخلاف پروپیگنڈہ مہم چلانے کی خبر کو بے بنیاد اور جھوٹا قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی وفاقی پارٹی ہے کسی قوم پرست جماعت کی پشت پناہی نہیں کرتی۔ پاکستان پیپلز پارٹی میڈیا سیل سے جاری کردہ بیان میں انہوں نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی میڈیا سیل کی طرف سے عدلیہ کیخلاف سیاسی مہم چلانے یا ایسی کسی مہم چلانے والوں کی پشت پناہی کرنے والی رپورٹ بے بنیاد اور جھوٹ پر مبنی ہے، پیپلز پارٹی تمام اداروں کا احترام کرتی ہے اور ان کو مضبوط کرنے میں یقین رکھتی ہے، پاکستان پیپلز پارٹی نے عدلیہ کی بحالی کیلئے بے شمار قربانیاں دیں ہیں عدلیہ سے کوئی ٹکراؤ نہیں چاہتی۔

Deny of Propegenda

کراچی (پ ر) پاکستان پیپلز پارٹی میڈیا سیل سندھ کے انچارج، رکن سندھ اسمبلی شرجیل انعام میمن نے چند اخباروں میں شائع ہونے والی عدلیہ کیخلاف پروپیگنڈہ مہم چلانے کی خبر کو بے بنیاد اور جھوٹا قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی وفاقی پارٹی ہے کسی قوم پرست جماعت کی پشت پناہی نہیں کرتی۔ پاکستان پیپلز پارٹی میڈیا سیل سے جاری کردہ بیان میں انہوں نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی میڈیا سیل کی طرف سے عدلیہ کیخلاف سیاسی مہم چلانے یا ایسی کسی مہم چلانے والوں کی پشت پناہی کرنے والی رپورٹ بے بنیاد اور جھوٹ پر مبنی ہے، پیپلز پارٹی تمام اداروں کا احترام کرتی ہے اور ان کو مضبوط کرنے میں یقین رکھتی ہے، پاکستان پیپلز پارٹی نے عدلیہ کی بحالی کیلئے بے شمار قربانیاں دیں ہیں عدلیہ سے کوئی ٹکراؤ نہیں چاہتی۔

Tuesday, January 11, 2011

Dr. Babar Awan


Dr. Babar Awan Press Conference at PPP Media Cell Sindh

Dr. Babar Awan Held a Press Confrence at a news conference at PPP's media cell before the meeting, Mr Awan expressed the hope that the PML-N would reconsider the 72-hour ultimatum it had given to the government to agree to its reform agenda, because there was no room for ultimatums and deadlines in a democratic dispensation.

He said that in democracy dialogue, and not ultimatums, could strengthen the system. He said he hopes Mian Nawaz Sharif will withdraw his ultimatum just like he reversed his decision to boycott elections in 2008.

He praised the MQM and PML-Q for their positive and constructive roles during the current crisis. He said the government's policy of reconciliation was important and must be clearly understood.

In an apparent reference to the patch-up reached between the PPP and MQM on Friday, the minister said that those predicting the fall of the government ware out of business now.


(Press Release)

سیاسی قیادت کے قاتلوں کو ہار پہنانا ن لیگ کی پالیسی ہے: بابر اعوان

کراچی: (پریس رلیز) :۔ وزیر قانون بابر اعوان نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن کی یہ پالیسی ہے کہ سیاسی قیادت قتل ہو اورقاتل کو ہار پہنائے جائیں۔ اس بارے میں نواز شریف کو اپنی پارٹی پالیسی واضح کرنا ہو گی۔ 
پیپلز پارٹی سندھ میڈیا سیل میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بابر اعوان نے کہا کہ بابر اعوان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کو جواب دینا ہو گا کہ گورنر پنجاب کے قاتل کومسلم لیگ ن اسلام آباد لائرز ونگ کے صدر فضل الرحمان نیازی نے ہار کیوں پہنائی؟۔ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن لیڈر چوہدری نثار نے آگ کا راگ الاپنا شروع کیا ہے۔ 10جنوری کی ڈیڈ لائن گزرنے کے بعد جواب ضرور دیں گے۔ بابر اعوان نے کہا کہ گورنر سلمان تاثیر کے قاتل کو راولپنڈی بار کے عہدیداروں کی جانب سے ہار پہنائے گئے ان وکلا کا تعلق مسلم لیگ ن سے ہے۔ نوازشریف اس پر پارٹی پالیسی واضح کریں‘ انہیں ایسے عناصر کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ لوڈشیڈنگ ہو یا سیاست ڈیڈ لائن نہیں دینی چاہیے۔ وفاقی وزیرقانون نے صوبائی وزیر رانا ثنا اللہ کے بیان پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔ تقریب میں پیپلز پارٹی کی صوبائی پارلیمانی کمیٹی کے ارکان اور دوسرے رہنما بھی موجود تھے۔   اگر ن لیگ پیپلز پارٹی کو پنجاب میں بوجھ سمجھتی ہے تو یہ بوجھ نہیں اترے گا، نواز شریف حکومت کو دیے گئے الٹی میٹم پر نظرثانی کریں۔

+










Dr. Babar Awan


Dr. Babar Awan Press Conference at PPP Media Cell Sindh

Dr. Babar Awan Held a Press Confrence at a news conference at PPP's media cell before the meeting, Mr Awan expressed the hope that the PML-N would reconsider the 72-hour ultimatum it had given to the government to agree to its reform agenda, because there was no room for ultimatums and deadlines in a democratic dispensation.

He said that in democracy dialogue, and not ultimatums, could strengthen the system. He said he hopes Mian Nawaz Sharif will withdraw his ultimatum just like he reversed his decision to boycott elections in 2008.

He praised the MQM and PML-Q for their positive and constructive roles during the current crisis. He said the government's policy of reconciliation was important and must be clearly understood.

In an apparent reference to the patch-up reached between the PPP and MQM on Friday, the minister said that those predicting the fall of the government ware out of business now.


(Press Release)

سیاسی قیادت کے قاتلوں کو ہار پہنانا ن لیگ کی پالیسی ہے: بابر اعوان

کراچی: (پریس رلیز) :۔ وزیر قانون بابر اعوان نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن کی یہ پالیسی ہے کہ سیاسی قیادت قتل ہو اورقاتل کو ہار پہنائے جائیں۔ اس بارے میں نواز شریف کو اپنی پارٹی پالیسی واضح کرنا ہو گی۔ 
پیپلز پارٹی سندھ میڈیا سیل میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بابر اعوان نے کہا کہ بابر اعوان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کو جواب دینا ہو گا کہ گورنر پنجاب کے قاتل کومسلم لیگ ن اسلام آباد لائرز ونگ کے صدر فضل الرحمان نیازی نے ہار کیوں پہنائی؟۔ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن لیڈر چوہدری نثار نے آگ کا راگ الاپنا شروع کیا ہے۔ 10جنوری کی ڈیڈ لائن گزرنے کے بعد جواب ضرور دیں گے۔ بابر اعوان نے کہا کہ گورنر سلمان تاثیر کے قاتل کو راولپنڈی بار کے عہدیداروں کی جانب سے ہار پہنائے گئے ان وکلا کا تعلق مسلم لیگ ن سے ہے۔ نوازشریف اس پر پارٹی پالیسی واضح کریں‘ انہیں ایسے عناصر کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ لوڈشیڈنگ ہو یا سیاست ڈیڈ لائن نہیں دینی چاہیے۔ وفاقی وزیرقانون نے صوبائی وزیر رانا ثنا اللہ کے بیان پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔ تقریب میں پیپلز پارٹی کی صوبائی پارلیمانی کمیٹی کے ارکان اور دوسرے رہنما بھی موجود تھے۔   اگر ن لیگ پیپلز پارٹی کو پنجاب میں بوجھ سمجھتی ہے تو یہ بوجھ نہیں اترے گا، نواز شریف حکومت کو دیے گئے الٹی میٹم پر نظرثانی کریں۔

+










Saturday, January 8, 2011

Dr. Babar Awan Press Conference at PPP Media Cell Sindh


Dr. Babar Awan Held a Press Confrence at a news conference at PPP's media cell before the meeting, Mr Awan expressed the hope that the PML-N would reconsider the 72-hour ultimatum it had given to the government to agree to its reform agenda, because there was no room for ultimatums and deadlines in a democratic dispensation.

He said that in democracy dialogue, and not ultimatums, could strengthen the system. He said he hopes Mian Nawaz Sharif will withdraw his ultimatum just like he reversed his decision to boycott elections in 2008.

He praised the MQM and PML-Q for their positive and constructive roles during the current crisis. He said the government's policy of reconciliation was important and must be clearly understood.

In an apparent reference to the patch-up reached between the PPP and MQM on Friday, the minister said that those predicting the fall of the government ware out of business now.


Dr. Babar Awan Press Conference at PPP Media Cell Sindh